ابنا: صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جنرل اسمبلي کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کے لئے نيويارک روانگي سے قبل صحافيوں سے گفتگو ميں کہا ہے کہ ايران اس سال جنرل اسمبلي کے اجلاس ميں ناوابستہ تحريک کے سربراہ کي حيثيت شرکت کررہا ہے اور اس بات نے اس کي ذمہ داري بڑھاي دي ہے - انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلي کے سربراہي اجلاس ميں، اقوام متحدہ ميں اصلاح اور علاقائي تنازعات، اور تشدد کے خاتمے کے لئے، ورکنگ گروہ کي تشکيل کے موضوعات پر تبادلہ خيال ہوگا –انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کريں گے کہ مستقبل کي زيادہ روشن تصوير انساني معاشرے کے سامنے پيش کريں - انہوں نے اقوام کي خودمختاري اور عزت کو بين الاقوامي تعلقات کے نظام پر مسلط طاقتوں کے مفادات کي ضد قرار ديا اور کہا کہ اگر ہم پيشرفت چاہتے ہيں تو ہميں عالمي تعلقات پر مسلط نظام کو تبديل کرنے اور عدل و انصاف کي حکمراني قائم کرنے کي کوشش کرني چاہئے –صدر مملکت نے کہا کہ سب جانتے ہيں کہ کوئي بھي قوم بين الاقوامي ميدان ميں موثر بنے بغير پيشرفت و ترقي نہيں کرسکتي - انہوں نے بتايا کہ مختلف اديان کے نمائندوں ، سماجي و سياسي تنظيموں کے رہنماؤں، اينٹي وار گروپ کے ليڈروں ، امريکا ميں مقيم ايرانيوں اور اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل کے ساتھ ملاقات بھي ان کے اس دورے کے پروگرام ميں شامل ہے .....
/169